پاکستان میں پائی جانے والی بکریوں کی بہترین نسلیں

بکریوں کی پاکستان میں بہت سی نسلیں پای جاتی ھیں
ان میں بیتل سب سے زیادہ دودھ اور اپنے قد شان کی وجہ سے مقبول ھے اس نسل کی ذیلی شاخیں
1-مکھی چینی
2-نکری/راجن پوری
3-امرتسری
4-ناگری
5-پوٹھوھاری
6-ھوتل
ان سب میں سے زیادہ امرتسری اور ناگری دودھ اور وزن کیلیے مشہور ھیں جبکہ باقی چاروں نسلیں اپنی خوبصورتی اور قد اور شان کی وجہ سے شہرت رکھتی ھیں
امرتسری بیتل کی خصوصیات
امرتسری کالے اور کالے سفید رنگت کی ھوتی ھیں کان بارہ انچ سے زیادہ لمبے سینگ ناہی بہت بڑے ناہی بہت چھوٹےلیکن موٹے ھوتے ہیں دم بلکل سیدھی تھن لمبے اور موٹے سر چوڑے اور بڑے ہوتے ہیں مادہ کا قد کم سے کم 36 انچ اور زیادہ سے زیادہ 45انچ نر کا قد کم سے کم 40 انچ اور زیادہ سے زیادہ 50 انچ ہوتا ہے انکے ناک مادہ میں عمومی طور سے لمبوترےاور نر میں طوطا جیسے ہوتے ھیں دودھ کم سے کم 2 لیٹر اور زیادہ سے زیادہ 7لیٹر تک ہوتا لیکن دودھ دینے کا دورانیہ 3-5 ماہ تک ہی ہوتا ہے اور مکمل بیانت کا دودھ 300لیٹر سے 500 لیٹر تک ہوتا ہے انکے نر قدرتی چرائ پردو سال کی عمر میں 100kgوزن کر لیتے ہیں انکی مادہ 18 ماہ کی عمر میں ملاپ کرانے سے مناسب قد کاٹھ کر لیتی ہیں اگرچہ ملاپ کی عمر 13 ماہ کے بعد شروع ہو جاتی ہے ان میں جڑواں بچوں کی شرح پیدائش 45% تک ہوتی ہےاور تین بچوں کی شرح 12فیصد تک ہوتی ہے ان جانوروں کی اوسط عمر 16-20 سال ہے۔
جانور کی پہچان
جانور کی پہچان سب سے مشکل سمجھی جاتی خاص طور پہ عمدہ اور خالص نسلی جانور کی ایسے جانور جو خالص امرتسری ہوںگے انکے کچھ اعضا بہت واضح اور عام یا ملاوٹ والے جانور سے کافی مختلف ہوںگے
سر
ایسے جانور کا سر بہت زیادہ بڑا اور موٹا ہو گا اور جانور کے ناک کا درمیانی حصہ واضح طور پہ ابھرا ہوا ہو گا اس جانور کا سر چھوٹا اور لمبوترا یا مکمل گول نہیں ہو گا جو کہ اس جانور کو دوسری نسلوں سے الگ کرتی ہے جیسے ہوتل بیتل کا سر چھوٹا اور گول ہو گا آنکھ کی ہڑی بہت بھاری اور اُبھار والی ہوتی ہے ہونٹ بہت موٹے اور بڑے ہوتے ہیں
سینگ
اس جانور کے بہت موٹے اور چوڑے ہوں گے اور سینگ بہت باریک ہرگز نہیں ہو گے جو کہ دوسری نسلوں کے ملاپ سے ممکن ہوتے ہیں اس کے سینگ زیادہ تر پیچھے کی طرف مڑ جاتے ہیں اور اکثر اوقات نر جانور کے سینگ کاٹنے بھی پڑ جاتے ہیں سینگوں کے درمیانی فاصلہ بہت زیادہ ہوتا ہے جسکی وجہ سے جانور کا ماتھا کافی چوڑا ہو جاتا ہے
کان
ایسے جانوروں کے بہت چوڑے اور بھاری ہوتے ہیں پتلے کم چوڑے اور ہلکے کان بھی دوسری باریک نسلوں سے ملاوٹ کے نتیجے میں آتے ہیں جو اس نسل کا خاصا نہیں ہے
جھالر
ان جانوروں کی عمر کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے اور نیچے والے ہونٹ سے ہی شروع ہو جاتی ہے
جسم
جسم کے اوپر بال نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں گردن لمبی اور موٹی اور پیٹ کی چوڑائی گردن سے پیٹھ کی طرف بڑھتی جاتی ہے یعنی جسم کافی گہرا ہوتا جاتا ہے کمر بلکل سیدھی کوئی بھی خم ہونا جانور کی کارکردگی میں کمی لا سکتا ہے اس کا سین
ہ چوڑا اور کشادہ ہونا چاہیے اور پچھلی ٹانگوں کے درمیان اور اگلی ٹانگوں کے درمیان فاصلہ زیادہ ہونا چاہیے اس کی جلد لچکدار اور ملائم ہونی چاہیے
دُم
ان کی دم نہ ہی بہت لمبی ہوتی ہے جو کہ ہوتل کی پہچان ہے نہ ہی چھلے دار جو کہ پوٹھوہاری کی پہچان بلکہ متوازن لمبی ہوتی ہے اور بلکل سیدھی ہوتی ہے کسی کام کا خم ملاوٹ کی طرف اشارہ کرتا ہے
ٹانگیں
ان جانوروں کی ٹانگیں بہت لمبی ہوتی ہیں کیونکہ یہ جانور اپنی بہت زیادہ قد کی وجہ سے مشہور ہیں انکے ایسے جانور جنکا قد بہت زیادہ ہو گا وہ لمبی ٹانگوں والے ہی ہوں گے ٹانگوں کے تمام جوڑ بہت موٹے اور بھاری ہوں گے
کپورے اور موتری
ان جانوروں کی موتری لٹکی ہوئی ہوتی ہے اور کپورے بہت بڑے ہوتے ہیں ایسا جانور جس کے کپورے چھوٹے ہوں وہ نسل کشی کے لیے استعمال نہ کیا جاے اور وہ بھی جس کے کپورے الگ الگ ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *